اسلام آباد:رواں سال موسم گرما میں، چین کے نوجوانوں کے ہاتھوں تیار کردہ ایک اے آئی مختصر ڈرامے "ٹھکرا دی گئی لڑکی”نے اچانک شہرت پائی اور عمومی توجہ کا مرکز بن گیا۔ کہانی کی مرکزی کردار، قصبے سے تعلق رکھنے والی فانگ تاؤ زی نامی ایک لڑکی ہے جو ماڈل بننے کے خواب کے ساتھ بڑے شہر کا رخ کرتی ہے، مگر ہمیشہ ایک خوف کے سائے میں جیتی ہے کہ کہیں وہ "کسی بھی وقت ٹھکرا نہ دی جائے” گروپ فوٹو سے نکال دیے جانے سے لے کر نوکری میں کوئی اہمیت نہ رکھنے تک، اور پھر عشق و محبت کے رشتے میں نوکرانی یا کسی کے زیرِ اثر بن کر رہ جانے کے دہانے تک۔ آخر کار وہ کسی بااثر اور ممتاز مرد کے ہاتھوں "تصدیق شدہ” کامیابی کا تمغہ قبول کرنے کے بجائے یہ فیصلہ کرتی ہے کہ پہلے وہ ایک آزاد اور خود مختار درخت بن کر پروان چڑھے گی۔”ٹھکرا دی گئی لڑکی” کا پہلا سیزن رواں سال جون میں جاری ہوا، اور اگست کے آخر تک دوسرے سیزن کا بھی اختتام ہو گیا۔ اب تک اس کے ویوز کی تعداد 40 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ مجازی اداکارہ فانگ تاؤ زی کا اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی ہے جہاں وہ اپنی روزمرہ زندگی کی جھلکیاں شیئر کرتی ہے، اور اُس کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ 5 لاکھ سے زائد فالوورز رکھتا ہے۔ بطور ایک "ابتدائی اے آئی اسٹار”، اُسے حال ہی میں کسی فیشن میگزین کے ڈیجیٹل ایڈیشن کے سرورق پر بھی جگہ مل چکی ہے۔یہ کوئی نئی ٹیکنالوجی کے معجزے کا نتیجہ نہیں ہے۔ دراصل ناظرین کو متاثر کرنے والی چیز اے آئی کی پیدا کردہ خوبصورت تصویریں اور چہرے نہیں، بلکہ ایک قدیم مگر ہمیشہ سے زندہ موضوع ہے کہ ایک عورت معاشرتی ڈھانچوں کی تنگ نگاہوں میں اپنی بصیرت کیسے پروان چڑھاتی ہیں۔روایتی فلم اور ٹی وی ڈراموں میں، خواتین سے متعلق کہانیاں ایک کلیشے کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں۔ یا تو خواتین کی ترقی کو صرف دولت اور شادی بیاہ کی تکمیل میں سمیٹ لیا جاتا ہے، یا پھر مرد کی بالادستی کے ذریعے ہی اُسے قدر کی سند دی جاتی ہے۔ یہ فضا سے معلق کہانیاں عام خواتین کی اصل زندگی سے کٹ کر رہ جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، "ٹھکرا دی گئی لڑکی” ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کے ذریعے خواتین کے ابتدائی ترین ارتقاء کی سچائی کو دہراتی ہے۔ مرکزی کردار کی ترقی کوئی ایک ہی رات میں رونما ہونے والا انقلاب نہیں، بلکہ تعصب، دباؤ اور آخری حد تک دھکیلے جانے کے سائے میں سے جھوٹی امیدوں سے نکل کر، حقیقت کو پہچانتے ہوئے اپنی سمجھ بوجھ قائم کرنے کا ایک طویل سفر ہے۔ڈرامے میں "ٹھکرا دیے جانے” کا استعارہ محض پیشہ ورانہ زندگی سے کہیں آگے کے معنی رکھتا ہے۔ یہ سماجی اصولوں، رشتوں کے توازن اور وسائل کی تقسیم میں خواتین کے نظرانداز کیے جانے، قابل تبدیل اور دوسروں کی طے کردہ تعریفوں میں جکڑے جانے کا اجتماعی احساس ہے۔ ڈرامے میں فانگ تاؤ زی بالآخر شرمندہ ہوئے بغیر اپنی خواہشات کا اقرار کرنے لگتی ہے، اور اب وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتی کہ "خوبصورتی ہی سب کچھ پانے کا راستہ ہے”۔ وہ آہستہ آہستہ سمجھنے لگتی ہے کہ ہر موقع کی ایک قیمت ہوتی ہے، یہاں تک کہ دوسروں کی طرف سے آنے والی نرم نگاہیں بھی۔ یہ بصیرت کوئی فطری تحفہ نہیں، بلکہ بار بار ٹھکرائے جانے، مٹائے جانے اور بدل دیے جانے کے درد سے جنم لینے والا فیصلہ ہے۔خواتین کا شعور کوئی نئی ایجاد نہیں جو ڈیجیٹل دور کی پیداوار ہو۔ چین میں، پاکستان میں، امریکہ میں، ایتھوپیا میں، اور دنیا کے تقریباً ہر خطے میں، نسل در نسل بہادر خواتین اپنی تحریروں اور عمل کے ذریعے روایتی دیواروں کو توڑنے اور اپنے شعور کو نکھارنے میں کبھی نہیں رکیں ۔ اُن کی تخلیقات اور عمل، خواتین کی آزاد روح کی زندہ ترین تشریح ہیں۔جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہاس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئیپروین شاکرپاکستان کی لیجنڈ شاعرہ پروین شاکر نے اردو ادب میں مرد کے غلبے والی روایت کو توڑا، اور سب سے پہلے سادہ مگر گہرے الفاظ میں خواتین کے احساسِ ذات اور اُن کے جذبات کو بیان کیا۔ اُن کی شاعری میں خواتین اب محض منسلک علامات یا معاشرتی قوانین کی قربانی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ آزاد جذبات، ہوشیار ادراک اور شخصیت کے وقار کی حامل خود مختار ہستی ہوتی ہیں۔ پروین شاکر نے روایتی ادب میں خواتین کے کمزور اور غیر فعال تصور کو ترک کیا اور خواتین کی خودی کی خواہشات اور روحانی آرزوؤں کو بلا جھجک بیان کیا، نرم مگر پختہ الفاظ کے ذریعے سماجی و صنفی بندشوں کو چیلنج کیا اور بےشمار خواتین میں خود شناسی کو اجاگر کیا۔مری بے بسی مجھ پہ ظاہر ہے لیکنتمہاری تمنا تمہاری تمنافہمیدہ ریاض پروین شاکر کی نرم بیداری کے برعکس، فہمیدہ ریاض کی تخلیقات میں زیادہ تیزی اور مزاحمت ہے۔ بطور پاکستان کی نمائندہ نسائی شاعرہ، اُن کی کلاسیکی تخلیقات چاروں طرف سے اٹھی ہوئی دیواروں اور روایتی پابندیوں کے سامنے کھڑی ہیں۔ وہ انکار کرتی ہیں کہ کوئی اُنہیں سماج کی مرضی سے متعین کرے یا قواعد کے ہاتھوں یرغمال بنائے۔ وہ خواتین کے آزادیِ اظہار اور آزادیِ وجود کا نعرہ لگاتی ہیں۔ ان دونوں شاعرات کی تخلیقات ثابت کرتی ہیں کہ خواتین کا شعور کوئی بیرونی طور پر تھوپا گیا لیبل نہیں، بلکہ دل کے اندر سے اُبھرنے والا وہ جذبہ ہے جو دوسروں کی طرف سے اپنی تعریف اور اپنی حدود سے انکار کرتا ہے۔یہ دورِ بیداری، جو وقت کی حدود کو پار کرتی ہے، مذکورہ اے آئی ڈرامہ کے پیغام سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ خواہ قلم اور کاغذ کو ہتھیار بنا کر لکھی گئی تحریر ہو یا ڈیجیٹل میڈیم کے ذریعے بیان کی گئی کہانی ، اصل میں یہ سب خواتین کی اپنی قدر کو تلاش کرنے اور اپنی حدود کو توڑنے کی کاوش ہے۔ یقیناً، بیداری کبھی ایک ہی مرتبہ مکمل نہیں ہوتی۔ جیسے فہمیدہ ریاض اور پروین شاکر کی نظمیں، وہ بھی ایسے ہی مخصوص، کبھی سمجھوتے پر مبنی روزمرہ لمحات سے روشنی نکال لاتی ہیں۔اے آئی لاکھوں چہرے تخلیق کر سکتی ہے، مگر یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ ہمیں اپنے منظر نامے میں کس طرح کھڑے ہونا چاہیے۔ یہ انتخاب صرف اور صرف ہم خود کر سکتے ہیں۔ جب ٹیکنالوجی کہانیاں کہنے کی دہلیز کو ہر دن مزید نیچے لاتی ہے، تو دعا یہی ہے کہ مزید خواتین قلم یا ماؤس اٹھائیں، اور اپنی کہانیاں لکھیں کہ کس طرح ٹھکرائی گئیں، اور پھر کس طرح انہوں نے اپنے آپ کو تصویر کے بالکل مرکز میں واپس جوڑا۔ کیونکہ آخرکار، کوئی بھی ایسا فرد نہیں ہونا چاہیے جسے گروپ فوٹو سے باآسانی کاٹ کر پھینک دیا جا سکے۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.