چینی صدر کے تجویز کردہ چار گلوبل انیشی ایٹوز پوری انسانیت کے لیے اہمیت کے حامل ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی کینیا


بیجنگ :کینیا کی قومی اسمبلی کے اسپیکر موسیٰ ویتنگولا نے چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ چین افریقہ کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کا قریبی شراکت دار ہے۔ ان کے مطابق سماجی اور اقتصادی ترقی، صنعت کاری، مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی سمیت روزگار کے متعدد شعبوں میں چین کے پاس ایسے تجربات ہیں جن سے افریقی ممالک سیکھ سکتے ہیں۔گزشتہ کئی برسوں کے دوران چین اور کینیا کے درمیان تعاون کا دائرہ بنیادی ڈھانچے سے بڑھ کر مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور ہنرمندی کی تربیت تک پھیل چکا ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں دونوں ممالک کے تعلقات کو نئے دور میں چین۔کینیا ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کی سطح تک بلند کیا گیا۔ اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے موسیٰ ویتنگولا نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کی اس نئی بلندی نے کینیا کے لیے تعاون کے مزید وسیع امکانات پیدا کیے ہیں۔موجودہ عالمی صورتِ حال میں غیر یقینی بڑھ رہی ہے۔ موسیٰ ویتنگولا کے خیال میں صدر شی جن پھنگ کے تجویز کردہ چار گلوبل انیشی ایٹوز پوری انسانیت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، اگر دنیا ان تصورات پر عمل کرے تو اسے مزید بہتر اور پُرامن جگہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے دورِ وزارتِ خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بعض افراد کئی بار ان کے پاس آئے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا کینیا ” تائیوان کی علیحدگی” کو تسلیم کر سکتا ہے؟ جس پر انہوں نے واضح طور پر انکار کرتے ہوئے کہا کہ نہ وہ ایسا کر سکتے ہیں اور نہ ہی کینیا ایسا کرے گا۔ ان کے مطابق، وہ خود، ان کی قیادت میں پارلیمنٹ اور پورا کینیا ایک چین کے اصول پر قائم ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.